10 اشعار

کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں

Kis ki aankhon ka liye dil pe asar jaate hain

کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں

«کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیںمے کدے ہاتھ بڑھاتے ہیں جدھر جاتے ہیں

دل میں ارمان وصال آنکھ میں طوفان جمالہوش باقی نہیں جانے کا مگر جاتے ہیں

بھولتی ہی نہیں دل کو تری مستانہ نگاہساتھ جاتا ہے یہ مے خانہ جدھر جاتے ہیں

پاسبانان حیا کیا ہوئے اے دولت حسنہم چرا کر تری دزدیدہ نظر جاتے ہیں

پرسش دل تو کجا یہ بھی نہ پوچھا اس نےہم مسافر کدھر آئے تھے کدھر جاتے ہیں

چشم حیراں میں سمائے ہیں یہ کس کے جلوےطور ہر گام پہ رقصاں ہیں جدھر جاتے ہیں

جس طرح بھولے مسافر کوئی ساماں اپناہم یہاں بھول کے دل اور نظر جاتے ہیں

کتنے بے درد ہیں اس شہر کے رہنے والےراہ میں چھین کے دل کہتے ہیں گھر جاتے ہیں

اگلے وقتوں میں لٹا کرتے تھے رہرو اکثرہم تو اس عہد میں بھی لٹ کے مگر جاتے ہیں

فیض آباد سے پہنچا ہمیں یہ فیض اخترؔکہ جگر پر لیے ہم داغ جگر جاتے ہیں

— اختر شیرانی