7 اشعار

کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے

Kis ko dekha hai ye hua kya hai

کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے

«کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہےدل دھڑکتا ہے ماجرا کیا ہے

اک محبت تھی مٹ چکی یا ربتیری دنیا میں اب دھرا کیا ہے

دل میں لیتا ہے چٹکیاں کوئیہائے اس درد کی دوا کیا ہے

حوریں نیکوں میں بٹ چکی ہوں گیباغ رضواں میں اب رکھا کیا ہے

اس کے عہد شباب میں جیناجینے والو تمہیں ہوا کیا ہے

اب دوا کیسی ہے دعا کا وقتتیرے بیمار میں رہا کیا ہے

یاد آتا ہے لکھنؤ اخترؔخلد ہو آئیں تو برا کیا ہے

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں