4 اشعار

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے

Kya keh gayi kisi ki nazar kuch na poochhiye

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے

«کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئےکیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئے

وہ دیکھنا کسی کا کنکھیوں سے بار باروہ بار بار اس کا اثر کچھ نہ پوچھئے

رو رو کے کس طرح سے کٹی رات کیا کہیںمر مر کے کیسے کی ہے سحر کچھ نہ پوچھئے

اخترؔ دیار حسن میں پہنچے ہیں مر کے ہمکیوں کر ہوا ہے طے یہ سفر کچھ نہ پوچھئے

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں