10 اشعار

مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے

Mujhe apni pasti ki sharm hai teri rifaton ka khayal hai

مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے

«مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 41 سیکنڈ ہے۔

مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہےمگر اپنے دل کو میں کیا کروں اسے پھر بھی شوق وصال ہے

اس ادا سے کون یہ جلوہ گر سر بزم حسن خیال ہےجو نفس ہے مست بہار ہے جو نظر ہے غرق جمال ہے

انہیں ضد ہے عرض وصال سے مجھے شوق عرض وصال ہےوہی اب بھی ان کا جواب ہے وہی اب بھی میرا سوال ہے

تری یاد میں ہوا جب سے گم ترے گم شدہ کا یہ حال ہےکہ نہ دور ہے نہ قریب ہے نہ فراق ہے نہ وصال ہے

تری بزم خلوت لا مکاں ترا آستاں مہ و کہکشاںمگر اے ستارۂ آرزو مجھے آرزوئے وصال ہے

میں وطن میں رہ کے بھی بے وطن کہ نہیں ہے ایک بھی ہم سخنہے کوئی شریک غم و محن تو وہ اک نسیم شمال ہے

میں بتاؤں واعظ خوش نوا ہے جہان و خلد میں فرق کیایہ اگر فریب خیال ہے وہ فریب حسن خیال ہے

یہی داد قصۂ غم ملی کہ نظر اٹھی نہ زباں ملیفقط اک تبسم شرمگیں مری بے کسی کا مآل ہے

وہ خوشی نہیں ہے وہ دل نہیں مگر ان کا سایہ سا ہم نشیںفقط ایک غم زدہ یاد ہے فقط اک فسردہ خیال ہے

کہیں کس سے اخترؔ بے نوا ہمیں بزم دہر سے کیا ملاوہی ایک ساغر زہر غم جو حریف نوش کمال ہے

— اختر شیرانی