8 اشعار

ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں

Un ko bulaayen aur woh na aayen to kya karen

ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں

«ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریںبے کار جائیں اپنی دعائیں تو کیا کریں

اک زہرہ وش ہے آنکھ کے پردوں میں جلوہ گرنظروں میں آسماں نہ سمائیں تو کیا کریں

مانا کہ سب کے سامنے ملنے سے ہے حجابلیکن وہ خواب میں بھی نہ آئیں تو کیا کریں

ہم لاکھ قسمیں کھائیں نہ ملنے کی سب غلطوہ دور ہی سے دل کو لبھائیں تو کیا کریں

بد قسمتوں کا یاد نہ کرنے پہ ہے یہ حالاللہ اگر وہ یاد ہی آئیں تو کیا کریں

ناصح ہماری توبہ میں کچھ شک نہیں مگرشانہ ہلائیں آ کے گھٹائیں تو کیا کریں

مے خانہ دور راستہ تاریک ہم مریضمنہ پھیر دیں ادھر جو ہوائیں تو کیا کریں

راتوں کے دل میں یاد بسائیں کسی کی ہماخترؔ حرم میں وہ نہ بلائیں تو کیا کریں

— اختر شیرانی