9 اشعار

نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے

Na chhed zahid nadaan sharaab peene de

نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے

«نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دےشراب پینے دے خانہ خراب پینے دے

ابھی سے اپنی نصیحت کا زہر دے نہ مجھےابھی تو پینے دے اور بے حساب پینے دے

میں جانتا ہوں چھلکتا ہوا گناہ ہے یہتو اس گناہ کو بے احتساب پینے دے

پھر ایسا وقت کہاں ہم کہاں شراب کہاںطلسم دہر ہے نقش بر آب پینے دے

مرے دماغ کی دنیا کا آفتاب ہے یہملا کے برف میں یہ آفتاب پینے دے

کسی حسینہ کے بوسوں کے قابل اب نہ رہےتو ان لبوں سے ہمیشہ شراب پینے دے

سمجھ کے اس کو غفور‌‌ الرحیم پیتا ہوںنہ چھیڑ ذکر عذاب و ثواب پینے دے

جو روح ہو چکی اک بار داغدار مریتو اور ہونے دے لیکن شراب پینے دے

شراب خانے میں یہ شور کیوں مچایا ہےخموش اخترؔ خانہ خراب پینے دے

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں