13 اشعار

یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں

Yaqeen-e-waada nahin taab-e-intezar nahin

یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں

«یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیںکسی طرح بھی دل زار کو قرار نہیں

شبوں کو خواب نہیں خواب کو قرار نہیںکہ زیب دوش وہ گیسوئے مشکبار نہیں

کلی کلی میں سمائی ہے نکہت سلمیٰشمیم حور ہے یہ بوئے نو بہار نہیں

کہاں کہاں نہ ہوئے ماہ رو جدا مجھ سےکہاں کہاں مری امید کا مزار نہیں

غموں کی فصل ہمیشہ رہی تر و تازہیہ وہ خزاں ہے کہ شرمندۂ بہار نہیں

بہار آئی ہے ایسے میں تم بھی آ جاؤکہ زندگی کا برنگ گل اعتبار نہیں

کسی کی زلف پریشاں کا سایۂ رقصاں ہےفضا میں بال فشاں ابر نو بہار نہیں

ستارہ وار وہ پہلو میں آ گئے شب کوسحر سے کہہ دو کہ محفل میں آج بار نہیں

گل فسردہ بھی اک طرفہ حسن رکھتا ہےخزاں یہ ہے تو مجھے حسرت بہار نہیں

ہر ایک جام پہ یہ نغمۂ حزیں ساقیکہ اس جوانی فانی کا اعتبار نہیں

خدا نے بخش دیئے میرے دل کو غم اتنےکہ اب میں اپنے گناہوں پہ شرمسار نہیں

چمن کی چاندنی راتیں ہیں کس قدر ویراںکہ اس بہار میں وہ ماہ نو بہار نہیں

شریک سوز ہیں پروانے شمع کے اخترؔہمارے دل کا مگر کوئی غم گسار نہیں

— اختر شیرانی