19 اشعار

ننھا قاصد

Nanha Qasid

ننھا قاصد

«ننھا قاصد» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

ترا ننھا سا قاصد جو ترے خط لے کر آتا تھانہ تھا معلوم اسے کس طرح کے پیغام لاتا تھا

سمجھ سکتا نہ تھا وہ خط میں کیسے راز پنہاں ہیںحروف سادہ میں کس حشر کے انداز پنہاں ہیں

اسے کیا علم ان رنگیں لفافوں میں چھپا کیا ہےکسی مہوش کا ان کے بھیجنے سے مدعا کیا ہے

مگر مجھ کو خیال آتا تھا اکثر اس زمانے میںکہ اس کی حیرت طفلی ہے کیوں گم اس فسانے میں

وہ با ایں کم سنی کیا یہ نہ دل میں سوچتا ہوگاکہ باجی نے ہماری اپنے خط میں کیا لکھا ہوگا

اور آخر وہ اسی کو نامہ لکھ کر بھیجتی کیوں ہیںکبھی بھیجا تو بھیجا لیکن اکثر بھیجتی کیوں ہیں

وہ پہلے سے زیادہ بھائی کو کیوں پیار کرتی ہیںلفافہ دے کے لطف خاص کا اظہار کرتی ہیں

پھر ایسے اجنبی پر اس کی باجی مہرباں کیوں ہیںاگر ہیں بھی تو گھر والوں سے یہ باتیں نہاں کیوں ہیں

اور اس کے شبہے کی اس سے بھی تو تائید ہوتی ہےچھپا کر خط کو لے جانے کی کیوں تاکید ہوتی ہے؟

یہ نوخیز اجنبی جانے کہاں سے اکثر آتا ہےجب آتا ہے تو باجی کی طرح خط لکھ کے لاتا ہے

عزیزوں کی طرح یہ کیوں مکاں میں آ نہیں سکتاجب اس سے پوچھتا ہے وہ اسے سمجھا نہیں سکتا

کھلونے دے کر اس کو مسکرا دیتا ہے وہ اکثراور اک ہلکا سا تھپڑ بھی لگا دیتا ہے وہ اکثر

ترے قاصد کے یہ افکار دل کو گدگداتے تھےاور اپنے بھولپن سے میرے جذبوں کو ہنساتے تھے

نہیں موقوف انہی ایام پر جب بھی خیال آیاتصور تیرے بعد اس کا بھی نقشہ سامنے لایا

مگر آج اس طرح دیکھا ہے وہ نقش حسیں میں نےکہ رکھ دی خاک حیرت پر محبت کی جبیں میں نے

وہی ننھا سا قاصد نوجواں ہو کر ملا مجھ کوزمانے کے تغیر نے پریشاں کر دیا مجھ کو

جنون ابتدائے عشق نے کروٹ سی لی دل میںپس از مدت یہ لے کے آ گئی پھر اپنے محمل میں

ترے قاصد سے ملتے وقت مجھ کو شرم آتی تھیمگر اس کی نگاہوں میں شرارت مسکراتی تھی

شرارت کا یہ نظارہ مری حیرت کا ساماں تھاکہ اس پردہ کے اندر تیرا راز عشق عریاں تھا

— اختر شیرانی