41 اشعار

وقت کی قدر

Waqt Ki Qadar

وقت کی قدر

«وقت کی قدر» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

دعوتبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ

چمن کی گود میں آ کر سما بھی جا سلمیٰکلی کلی میں بہاریں بسا بھی جا سلمیٰ

مجھے جنوں کا سبق پھر پڑھا بھی جا سلمیٰبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ

ملیں گے حشر میں مت کہہ یہ بار بار مجھےہو کیسے حشر کے وعدے پہ اعتبار مجھے

خدا کے دل پہ نہیں کوئی اختیار مجھےخدا کو مان یہیں حشر اٹھا بھی جا سلمیٰ

بہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰنشاط عمر کو امید پر نثار نہ کر

وصال صبح قیامت کا انتظار نہ کرریاض خلد کی باتوں کا اعتبار نہ کر

فریب وعدۂ فردا مٹا بھی جا سلمیٰبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ

کسے خبر ہے قیامت میں ہم ملیں نہ ملیںفضائے روضۂ جنت میں ہم ملیں نہ ملیں

کشاکش ابدیت میں ہم ملیں نہ ملیںکشاکش ابدیت بھلا بھی جا سلمیٰ

بہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰگنوا نہ سوگ میں اپنے شباب کی راتیں

نظر نہ آئیں گی پھر ماہتاب کی راتیںیہ نکہتوں کا ہجوم اور یہ خواب کی راتیں

فضا میں خواب حسیں بن کے چھا بھی جا سلمیٰبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ

خبر لے جلد کہ عمر عزیز فانی ہےسرائے دہر کی ہر چیز آنی جانی ہے

برنگ ابر رواں فصل نوجوانی ہےچھلکنے والا ہے ساغر پلا بھی جا سلمیٰ

بہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰکسے خبر یہ گھٹائیں رہیں رہیں نہ رہیں

یہ نکہتیں یہ ہوائیں رہیں رہیں نہ رہیںیہ مستیاں یہ فضائیں رہیں رہیں نہ رہیں

شراب وصل کا ساغر پلا بھی جا سلمیٰبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ

ثبات عہد زمانے میں کسی نے پایا ہےزمانہ رنگ بدلنے کو رنگ لایا ہے

بہار عمر رواں بادلوں کا سایا ہےبہار عمر کی خوشیاں منا بھی جا سلمیٰ

بہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰترے خیال کو دل میں بسائے بیٹھے ہیں

خدائی ہو کہ خدا ہو بھلائے بیٹھے ہیںسرور عہد جوانی لٹائے بیٹھے ہیں

تو آ کے قدر جوانی سکھا بھی جا سلمیٰبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ

یہ فصل اور یہ بہاریں نظر نہ آئیں گی پھریہ بادلوں کی قطاریں نظر نہ آئیں گی پھر

یہ ہلکی ہلکی پھواریں نظر نہ آئیں گی پھرشراب عیش مسرت لنڈھا بھی جا سلمیٰ

بہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰبتا تو کیا یہ نظارے اجڑ نہ جائیں گے

یہ ندیاں یہ کنارے اجڑ نہ جائیں گےیہ چاند اور یہ کنارے اجڑ نہ جائیں گے

ستارہ وار شعاعیں لٹا بھی بھی جا سلمیٰبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ

غموں پہ کی ہیں فدا شادمانیاں ہم نےخدا کے نام پہ تج دیں جوانیاں ہم نے

گزار دی ہیں یوں ہی زندگانیاں ہم نےدم اخیر تو غم سے چھڑا بھی جا سلمیٰ

بہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰفنا نصیب ہیں یہ سبزہ زار کے منظر

یہ کوہسار دل جوئبار کے منظرنظر نہ آئیں گے پھر یہ بہار کے منظر

ابھی سماں ہے بہاریں دکھا بھی جا سلمیٰبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ

خبر لے جلد کہ بہکی ہوئی بہار ہے آجنشاط خلد سے معمور سبزہ زار ہے آج

اجل پہ بھی مری ہستی کو اختیار ہے آجغرور عشق کی ہمت بڑھا بھی جا سلمیٰ

بہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰتو حکم دے تو ستاروں کو چھین لاؤں میں

فلک سے اس کے نظاروں کو چھین لاؤں میںارم کی مست بہاروں کو چھین لاؤں میں

خدائی کو یہ تماشا دکھا بھی جا سلمیٰبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ

تو سامنے ہو تو کون و مکاں کو گم کر دوںخم طرب میں خم آسماں کو گم کر دوں

دوئی ہو فرد تو دونوں جہاں کو گم کر دوںبرنگ روح بدن میں سما بھی جا سلمیٰ

بہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ

— اختر شیرانی