16 اشعار

شملہ

Shimla

شملہ

«شملہ» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

لوگ گرمی میں شملے جاتے ہیںٹھنڈے موسم کا لطف اٹھاتے ہیں

کتنی شفاف ہے فضا اس کیکس قدر صاف ہے ہوا اس کی

اودی اودی گھٹائیں چھاتی ہیںٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں

ابھی بادل ہیں اور ابھی ہے دھوپدیکھو قدرت کے یہ انوکھے روپ

گر صفائی کے حال کو دیکھیںآپ شملے کی مال کو دیکھیں

کتنی ستھری ہے ہر دکان یہاںکتنا اچھا ہے ہر مکان یہاں

ہوٹلوں کی نفاستیں دیکھوکوٹھیوں کی عمارتیں دیکھو

سبزہ وادی میں لہلہاتا ہےپھرنے والوں کا جی لبھاتا ہے

اونچے پیڑوں کی ہے بہار یہاںہیں کھڑے چیل دیودار یہاں

ہیں بلندی پہ ہر مکان سے یہبات کرتے ہیں آسمان سے یہ

بادل اتنے قریب ہوتے ہیںپیار سے منہ زمیں کا دھوتے ہیں

راستہ گر کہیں سے پاتے ہیںبند کمروں میں بھی گھس آتے ہیں

یوں تو ہر منظر اس کا پیارا ہےرات کا اور ہی نظارہ ہے

جب ہوں بجلی کے قمقمے روشندیکھو اس وقت شملے کا جوبن

قمقمے کیا ہیں کچھ ستارے ہیںآسماں نے یہاں اتارے ہیں

شعلے سے اڑتے ہیں فضاؤں میںشمعیں آوارہ ہیں ہواؤں میں

— اختر شیرانی