5 اشعار

ملو کہ بعد میں شاید یہ سلسلہ نہ رہے

Milo ke ba'ad mein shayad ye silsila na rahe

ملو کہ بعد میں شاید یہ سلسلہ نہ رہےیہ رنگ و گل نہ رہیں صحبت صبا نہ رہے

قریب تر ہے وہ عہد زیاں نصیب کہ جببشر بشر نہ رہے اور خدا خدا نہ رہے

وہاں بھی راہ بجھاتی ہے اپنے لفظ کی لوچراغ چشم جہاں گل ہو راستہ نہ رہے

سفر میں چند مراحل کڑے پڑے ہیں تو کیاہمیں جنوں تھا کہ رستہ بجھا بجھا نہ رہے

ہمارے نام پہ گھونگھٹ اٹھا نگار صلیبہمارے سر پہ ترا کوئی بھی گلہ نہ رہے

— اختر عثمان