5 اشعار

اک سحر تحیر تھا کہ احساس کی رو تھی

ek sehr-e-tahayyur tha ki ehsas ki rau thi

اک سحر تحیر تھا کہ احساس کی رو تھیدن کو بھی نگاہوں میں شبیہ مہ نو تھی

ہم لوگ تو وابستۂ یک تار نظر تھےمعلوم نہیں اس کے سوا بھی کوئی لو تھی

تب ذہن پہ ظلمات کا پرتو نہ پڑا تھاجھلمل تھے کمالات خیالات میں ضو تھی

پھر خواب خرد خوار سے بیدار ہوئے توہر ذہن پہ زنگار تھا ہر چشم گرو تھی

خس خانۂ افکار میں کچھ بھی تو نہیں تھاچند ایک شرارے تھے اور ان کی تگ و دو تھی

— اختر عثمان