4 اشعار

جہاں کو خط تناسب پہ لا بنایا ہے

jahan ko khatt-e-tanasub pe la banaya hai

جہاں کو خط تناسب پہ لا بنایا ہےکسی نے خاک سے دیکھو تو کیا بنایا ہے

اس اہتمام سے پیکر ترا تراشتا ہوںگمان گزرے کہ جیسے بنا بنایا ہے

مرے چراغ کی لو کا سفر ہوا کے خلافمرے جنوں نے نیا راستہ بنایا ہے

کسی کے مرقد خستہ سے آ رہی ہے صداہمارے بعد کی نسلوں نے کیا بنایا ہے

— اختر عثمان