5 اشعار

فریب خانۂ دنیا بھی دیکھتے چلئے

Fareb-khana-e-duniya bhi dekhte chaliye

فریب خانۂ دنیا بھی دیکھتے چلئےروا روی میں تماشا بھی دیکھتے چلئے

خود اپنا مسکن فردا بھی دیکھتے چلئےاب آ گئے ہیں تو صحرا بھی دیکھتے چلئے

نہ جانے پھر یہ تلاطم نصیب ہو کہ نہ ہواس اوج موج میں دریا بھی دیکھتے چلئے

بقدر سیریٔ عرفاں کوئی بھی رنگ نہیںدکان زیست کو جتنا بھی دیکھتے چلئے

چراغ نقش کف پا جلائیے ہر سومگر ہوا کا اشارہ بھی دیکھتے چلئے

— اختر عثمان