5 اشعار

جب دور ہیں تجھ سے تو یہ افتاد بھی آئے

Jab door hain tujh se to ye iftad bhi aaye

جب دور ہیں تجھ سے تو یہ افتاد بھی آئےطوفان شب دشت میں تو یاد بھی آئے

حیران ہے اس بات پہ انبوہ اسیراںپر کھلنے کی تقریب میں صیاد بھی آئے

ہارے ہوئے لشکر کا علم گر بھی چکا ہےاب کیا جو کسی سمت سے امداد بھی آئے

اک عمر ہوئی نذر خرابات ہماریصد شکر سر قریۂ آباد بھی آئے

اک بو کہ بغل گیر ہوئی دشت میں ہم سےجیسے یہاں پہلے کبھی اجداد بھی آئے

— اختر عثمان