5 اشعار

ہر عکس مرا عکس ہو اتنا بھی نہیں میں

Har aks mira aks ho itna bhi nahin main

ہر عکس مرا عکس ہو اتنا بھی نہیں میںاس آئنہ خانے میں کہیں تو ہے کہیں میں

یہ میرے بدن پر جو سلگنے کے نشاں ہیںیوں ہیں کہ ذرا بھر کو ہوا اس کے قریں میں

اک وقت میں کتنے ہی گمانوں سے گزر کرلکھتا ہوں یہ کچھ لفظ سر لوح یقیں میں

یہ عالم نابود ہے یا بود ہے کیا ہےمیں کہتا ہوں میں ہوں کوئی کہتا ہے نہیں میں

وہ در تو بنا ہے نہ بنے گا کبھی اخترؔجس کے لئے پھرتا ہوں لئے اپنی جبیں میں

— اختر عثمان