5 اشعار

وہ بھی نہ کھلا بستۂ پندار تھے ہم بھی

Woh bhi na khula basta-e-pindaar the hum bhi

وہ بھی نہ کھلا بستۂ پندار تھے ہم بھیخاموش تھا وہ صورت دیوار تھے ہم بھی

حد بندیٔ احساس رہی عمر معیناور دائرۂ کار میں پرکار تھے ہم بھی

اے نرگس وا چشم ترے اوج کے دن ہیںتیری ہی طرح دیدۂ بے دار تھے ہم بھی

ہم بھی تھے انہی میں جو زباں سے نہ پھرے تھےپھر خلق نے دیکھا کہ سر دار تھے ہم بھی

آجر سے جو اجرت ہمیں پہنچی یہی پہنچیجب قصر گرا تھا تہہ دیوار تھے ہم بھی

— اختر عثمان