5 اشعار

کس اور لے چلی ہے ہوائے نمو مجھے

kis aur le chali hai hawa-e-namo mujhe

کس اور لے چلی ہے ہوائے نمو مجھےملتا ہے گام گام اک آشفتہ رو مجھے

کہنا تو اور کچھ تھا دم گفتگو مجھےاک اور سمت ڈال گئے رنگ و بو مجھے

دونوں ہی درد کیش تھے دونوں ہی بیش تھےمیں تجھ کو کم سمجھتا رہا اور تو مجھے

بزم نمود و نام سجی شور سا اٹھامیں چل دیا کہ راس نہ تھی ہاؤ ہو مجھے

اخترؔ بڑی کڑی تھی مسافت اور اس کے بعدمجھ پر کھلا کہ اپنی ہی تھی جستجو مجھے

— اختر عثمان