5 اشعار

جو وہم ہے ڈر ہے پس پردہ نہیں نکلا

Jo wahm hai dar hai pas-e-parda nahin nikla

جو وہم ہے ڈر ہے پس پردہ نہیں نکلابستی سے ابھی تک وہ بگولا نہیں نکلا

ہندہ کی طرح جسم ادھیڑا تھا ہوا نےلیکن مرے سینے سے کلیجہ نہیں نکلا

کچھ ہم ترے معیار پہ پورے نہیں اترےکچھ تو بھی کہ مشہور تھا جیسا نہیں نکلا

گو شہر میں پیمائش قد عام ہے لیکناک شخص بھی ہم قامت سایہ نہیں نکلا

پوشاک رفو کار کے کیا کہنے کہ اخترؔاک تار گریبان میں اپنا نہیں نکلا

— اختر عثمان