5 اشعار

میں دیکھ ہی رہا تھا کہ یک دم بھنور پھرا

main dekh hi raha tha ki yak dam bhanwar phira

میں دیکھ ہی رہا تھا کہ یک دم بھنور پھراگھوما صدف نگاہ میں اس میں گہر پھرا

سیدھے سبھاؤ زیست سمجھنا محال ہےاس کام کو بھی چاہئے مجھ سا ہی سر پھرا

ہم تو سدا سے بستۂ یک تار چشم ہیںخدشہ سا تیری سمت سے ہے تو اگر پھرا

یک دم کسی کی یاد میں آنکھیں بھر آئی تھیںاک دن یوں ہی خیال سوئے چشم تر پھرا

اخترؔ زر سخن کی کسی کو طلب نہیںمیں تو اسے اٹھائے ہوئے در بدر پھرا

— اختر عثمان