5 اشعار

نگاہ یوں بھی نہ ٹھہرے کہ درد سر بن جائے

Nigah yun bhi na thehre ke dard-e-sar ban jaaye

نگاہ یوں بھی نہ ٹھہرے کہ درد سر بن جائےیہ سنگ چشم کسی ڈھب سے اب گہر بن جائے

کمال کوزہ گری ہے کہ میں جسے سوچوںوہ نقش چاک پہ آنے سے پیشتر بن جائے

جدید عہد میں الٹا ہے ارتقا کا سفرعجب نہیں ہے پھر انسان جانور بن جائے

میں چاہتا ہوں کہ چکنی چٹان پر ہی چلوںیہ کیا بعید مرے بعد رہ گزر بن جائے

بہت نحیف نہیں ہے گرفت حلقۂ چشمنظر اٹھے تو زمانے کی جان پر بن جائے

— اختر عثمان