13 اشعار

آخری ملاقات

Aakhri Mulaqaat

آخری ملاقات

«آخری ملاقات» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!آتی نہیں کہیں سے دل زندہ کی صدا

سونے پڑے ہیں کوچہ و بازار عشق کےہے شمع انجمن کا نیا حسن جاں گداز

شاید نہیں رہے وہ پتنگوں کے ولولےتازہ نہ رہ سکیں گی روایات دشت و در

وہ فتنہ سر گئے جنہیں کانٹے عزیز تھےاب کچھ نہیں تو نیند سے آنکھیں جلائیں ہم

آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!سوچا نہ تھا کہ آئے گا یہ دن بھی پھر کبھی

اک بار پھر ملے ہیں، ذرا مسکرا تو لیں!کیا جانے اب نہ الفت دیرینہ یاد آئے

اس حسن اختیار پہ آنکھیں جھکا تو لیںبرسا لبوں سے پھول تری عمر ہو دراز

سنبھلے ہوئے تو ہیں پہ ذرا ڈگمگا تو لیںاور اپنا اپنا عہد وفا بھول جائیں ہم

آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!برسوں کی بات ہے کہ مرے جی میں آئی تھی

میں سوچتا تھا تجھ سے کہوں، چھوڑ کیا کہوںاب کون ان شکستہ مزاروں کی بات لائے

ماضی پہ اپنے حال کو ترجیح کیوں نہ دوںماتم خزاں کا ہو کہ بہاروں کا، ایک ہے

شاید نہ پھر ملے تری آنکھوں کا یہ فسوںجو شمع انتظار جلی تھی بجھائیں ہم

آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!

— اخترالایمان