38 اشعار

اپاہج گاڑی کا آدمی

Apahaj Gaadi ka Aadmi

اپاہج گاڑی کا آدمی

«اپاہج گاڑی کا آدمی» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

کچھ ایسے ہیں جو زندگی کو مہ و سال سے ناپتے ہیںگوشت سے ساگ سے دال سے ناپتے ہیں

خط و خال سے گیسوؤں کی مہک چال سے ناپتے ہیںصعوبت سے جنجال سے ناپتے ہیں

یا اپنے اعمال سے ناپتے ہیںمگر ہم اسے عزم پامال سے ناپتے ہیں

یہ لمحہ جو گزرا مرے خون کی اس میں سرخی ملی ہے؟مرے آنسوؤں کا نمک اس کی لذت میں شامل ہوا ہے؟

پسینے سے گرداب ساحل ہوا ہے؟یہ لا کا سفر لا رہے گا کہ کچھ اس کا حاصل ہوا ہے

کہ جیسے تھی برسوں سے ویسی ہی تشنہ دلی ہے؟میں کب سے زمیں پر زمیں کی طرح چل رہا ہوں

یہ دیوانہ اندھا سفر کب کہاں جا کے چھوڑے گا مجھ کو؟میں اس زندگی کی بہت سی بہاریں غذا کی طرح کھا چکا ہوں

پہن اوڑھ کر پیرہن کی طرح پھاڑ دی ہیںمیں ریشم کا کیڑا ہوں کویے میں چھپ جاتا ہوں ڈر کے مارے

اسی کویے کو کھاتا رہتا ہوں اور کاٹ کر اس سے آتا ہوں باہراور اپنے جینے کا مقصد سبب جاننا چاہتا ہوں

مرا دل خدا کی رضا ڈھونڈھتا پھر رہا ہےمرا جسم لذات کی جستجو میں لگا ہے

گزر گاہ شام و سحر پر کہیں ایک دن میں اگا تھانباتات کی طرح جیتا ہوں اس کارگاہ جہاں میں

نہ احساس ایمان ایقان کوئینہ دنیا میں شامل نہ خود اپنی پہچان کوئی

گنہ اور جہنم ثواب اور جنت؟یہ کیوں ہے کہ بے مزد کچھ بھی نہیں مل سکا ہے

نہ کل مل سکے گااساطیر فرماں رواؤں کے احکام اور صوفیا کی کرامت کے قصے

پیمبر کی دل سوزیوں کے مظاہرقلم بند ہیں سب!

انہیں ہم نے تعویذ کی طرح اپنے گلوں میں حمائل کیا ہےانہیں ہم نے تہہ خانوں کی کوٹھری میں مقفل کیا ہے

جہاں لڑکھڑاتے ہیں ان کی مدد لے کے چلتے ہیں آگےمگر راستوں کا تعین نہیں ہے!

میں بکھرا ہوا آدمی ہوںمری ذہنی بیماریوں کا سبب یہ زمیں ہے

میں اس دن سے ڈرتا ہوں جب برف ساری پگھل کراسے غرق کر دے

نئے آسمانی حوادثصفر میں بدل دیں

یا آدمی اپنے اعمال سے خوداسے اک کہانی بنا دے

زمیں شورہ پشتوں کی آماجگہ بن گئی ہےخدا ایک ہے یوں تو واوین میں صاف لکھا ہوا ہے

مگر زیر واوین بھی چھوٹی چھوٹی بہت تختیاں ہیںجلی حرف جن کے بہت امتوں کا پتہ دے رہے ہیں

جو یہ تختیاں اپنی گردن میں لٹکائےزنار پہنے ہوئے کوئی تسبیح تھامے

اپنی گرد سفر کے دھند میں لپٹے چلے جا رہے ہیںزیتون کی شاخ تلسی کے پتے

ہوا میں اڑے جا رہے ہیںچیونٹیوں کی قطاریں قرن در قرن

مختلف پیچ در پیچ راہوں سے گزری چلی جا رہی ہیںسیکڑوں سر کٹے دھڑ بہت راستوں پر پڑے ہیں

ہون ہو رہے ہیںیگیہ کے منتروں کی صدا

آگ میں جلنے والی سامگری کی بہت تیز بوہر طرف پھیل کر بس گئی ہے ہوا میں

اور واوین کی قید میں جو خدا ہےلا مکاں سے

جو ہوتا ہے ہوتا رہے گابیٹھا چپ چاپ سب دیکھتا ہے

ہم بھی کیوں نہ خدا کی طرح یونہی چپ سادھ لیںپیڑ پودوں کی مانند جیتے رہیں

ذبح ہوتے رہیں!وہ دعائیں جو بارود کی بو میں بس کر

بھٹکتی ہوئی زیر عرش بریں پھر رہی ہیںانہیں بھول جائیں

زندگی کو خدا کی عطا جان کر ذہن ماؤف کر لیںیاوہ گوئی میں یا ذہنی ہذیان میں خود کو مصروف کر لیں

ان میں مل جائیں جو زندگی کوگوشت سے ساگ سے دال سے ناپتے ہیں

مہ و سال سے ناپتے ہیںاپنا ہی خون پینے لگے ہیں

چاک دامانیاں غم سے سینے لگے ہیں

— اخترالایمان