7 اشعار

آگہی

Aagahi

آگہی

«آگہی» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان» میں 27 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

میں جب طفل مکتب تھا، ہر بات، ہر فلسفہ جانتا تھاکھڑے ہو کے منبر پہ پہروں سلاطین پارین و حاضر

حکایات شیرین و تلخ ان کی، ان کے درخشاں جرائمجو صفحات تاریخ پر کارنامے ہیں، ان کے اوامر

نواہی، حکیموں کے اقوال، دانا خطیبوں کے خطبےجنہیں مستمندوں نے باقی رکھا اس کا مخفی و ظاہر

فنون لطیفہ خداوند کے حکم نامے، فرامینجنہیں مسخ کرتے رہے پیر زادے، جہاں کے عناصر

ہر اک سخت موضوع پر اس طرح بولتا تھا کہ مجھ کوسمندر سمجھتے تھے سب علم و فن کا، ہر اک میری خاطر

تگ و دو میں رہتا تھا، لیکن یکایک ہوا کیا یہ مجھ کویہ محسوس ہوتا ہے سوتے سے اٹھا ہوں، ہلنے سے قاصر

کسی بحر کے سونے ساحل پہ بیٹھا ہوں گردن جھکائےسر شام آئی ہے دیکھو تو ہے آگہی کتنی شاطر!

— اخترالایمان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں