10 اشعار

بلاوا

Bulawa

بلاوا

«بلاوا» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

نگر نگر کے دیس دیس کے پربت ٹیلے اور بیاباںڈھونڈ رہے ہیں اب تک مجھ کو کھیل رہے ہیں میرے ارماں

میرے سپنے میرے آنسو ان کی چھلنی چھاؤں میں جیسےدھول میں بیٹھے کھیل رہے ہوں بالک باپ سے روٹھے روٹھے!

دن کے اجالے سانجھ کی لالی رات کے اندھیارے سے کوئیمجھ کو آوازیں دیتا ہے آؤ آؤ آؤ آؤ

میری روح کی جوالا مجھ کو پھونک رہی ہے دھیرے دھیرےمیری آگ بھڑک اٹھی ہے کوئی بجھاؤ کوئی بجھاؤ

میں بھٹکا بھٹکا پھرتا ہوں کھوج میں تیری جس نے مجھ کوکتنی بار پکارا لیکن ڈھونڈ نہ پایا اب تک تجھ کو

میرے سنگی میرے ساتھی تیرے کارن چھوٹ گئے ہیںتیرے کارن جگ سے میرے کتنے ناطے ٹوٹ گئے ہیں

میں ہوں ایسا پات ہوا میں پیڑ سے جو ٹوٹے اور سوچےدھرتی میری گور ہے یا گھر یہ نیلا آکاش جو سر پر

پھیلا پھیلا ہے اور اس کے سورج چاند ستارے مل کرمیرا دیپ جلا بھی دیں گے یا سب کے سب روپ دکھا کر

ایک اک کر کے کھو جائیں گے جیسے میرے آنسو اکثرپلکوں پر تھرا تھرا کر تاریکی میں کھو جاتے ہیں

جیسے بالک مانگ مانگ کر نئے کھلونے سو جاتے ہیں!

— اخترالایمان