27 اشعار

دلی کی گلیاں تین منظر

Dilli ki Galiyan Teen Manzar

دلی کی گلیاں تین منظر

«دلی کی گلیاں تین منظر» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

پہلا منظرسن انیس سو اڑتیس ہے

سردی کی ٹھٹھری راتیں ہیںرات کے کوئی آٹھ بجے ہیں

آج یہ سب گزری باتیں ہیںموری دروازے کے باہر

نشے میں دھت فوجی گورےانگریزی سرکار کے چھورے

تانگے والوں کو پیٹ رہے ہیںتانگے والے گھبرا گھبرا کر

ادھر ادھر سب بھاگ رہے ہیںاور سپاہی آنکھ چرا کر

دوسری جانب دیکھ رہے ہیںچلتے چلتے راہ میں رک کر

میں یہ منظر دیکھ رہا ہوںدوسرا منظر

فتح پوری مسجد کے آگےچاندنی چوک کا لمبا رستہ

لال قلعے تک لے جاتا ہےہاتھ میں تھامے اپنا بستہ

میں مکتب کی سمت رواں ہوںشاہجہاں کے لال قلعے پر

گوروں کا پہرا بیٹھا ہےچاندنی چوک میں دائیں بائیں

گلیوں کوچوں بازاروں میںبجلی کے کھمبوں پر ہر سو

ڈھیروں لڑکے چڑھے ہوئے ہیںاور تاروں کو کاٹ رہے ہیں

پولس گولی چلا رہی ہےچلتے چلتے راہ میں رک کر

میں یہ منظر دیکھ رہا ہوںتیسرا منظر

گورے لندن چلے گئے ہیںمانگیں پوری ہو گئیں آج

نیتا راہنما سب خوش ہیںملک نے پایا ہے سوراج

لال قلعے پر آزادی کاسہہ رنگا پرچم لہرایا

دلی کی گلیوں میں سب نےآزادی کا جشن منایا

لیکن ایکا ایکی جیسےپردہ اٹھا منظر بدلا

دھند سی چھائی ہے ہر جانبجو کچھ ہے سب گدلا گدلا

کوئی نہیں سنتا ہے کسی کیہو گئے لوگ اچانک بہرے

ریلوں میں بے سر کی لاشیںسڑکوں پر بے دھڑ کے چہرے

ہریجن بستی کی کٹیا میںخون سے لت پت لہولہان

کٹیا جیسے اک شمشانگاندھی جی کی لاش پڑی ہے

آزادی کچھ دور کھڑی ہے

— اخترالایمان