11 اشعار

کارنامہ

Kaarnaama

کارنامہ

«کارنامہ» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

عظیم کام کروں کوئی ایک دن سوچاکہ رہتی دنیا میں اپنا بھی نام رہ جائے

مگر وہ کام ہو کیا ذہن میں نہیں آیاپیمبری تو زیاں جان کا ہے دعویٰ کیا

تو جانے سولی پہ چڑھنا ہو یا چلیں آرےکہ زندہ آگ کی لپٹوں کی نذر ہونا پڑے

خیال آیا فنون لطیفہ ڈھیروں ہیںصنم تراشی ہے نغمہ گری کہ نقاشی

یہ سب ہی دائمی شہرت کا اک وسیلہ ہیںمگر نہ لفظوں پہ قدرت نہ رنگ قابو میں

پھر اک ذریعہ سیاست ہے نام پانے کاعلاوہ نام کے مہرے بنا کے لوگوں کو

بساط ارض پہ شطرنج کھیل سکتے ہیںمگر یہ فن بھی مری دسترس سے باہر تھا

پھر اور کیا ہو بہت کچھ خیال دوڑایاعلاوہ ان کے مجھے اور کچھ نہیں سوجھا

زمانے بعد سمندر کنارے بیٹھا تھاعظیم شے ہے سمندر بھی میرے دل نے کہا

وہ کیا طریقہ ہو میں اس کا بھاگ بن جاؤںسمجھ میں آیا نہیں کوئی راستہ بھی جب

تو جھنجھلا کے سمندر میں کر دیا پیشاب

— اخترالایمان