11 اشعار

لغزش

Lagzish

لغزش

«لغزش» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

جھلملا کر بجھ گئے پاگل امیدوں کے دیےتو سمجھتی ہے کہ میں ہوں آج تک اندوہگیں

وقت کے ہاتھوں نے آخر مندمل کر ہی دیااب مرے معصوم زخموں سے لہو بہتا نہیں

جب حنائی انگلیوں کی جنبشیں آتی ہیں یادجذب کر لیتا ہوں آنکھوں کی جنبشیں آتی ہیں یاد

اب مگر ماضی کی ہر شے پر اندھیرا چھا گیااور ہی راہوں سے گزرتی جا رہی ہے زندگی

ذہن میں ابھرے ہوئے ہیں چند بے جا سے نقوشاور ان میں بھی نہیں ہے کوئی ربط باہمی

خواب دیکھا تھا کسی دامن کی چھاؤں میں کبھیایک ایسا خواب جس کا مدعا کوئی نہیں

میں اکیلا جا رہا ہوں اور زمیں ہے سنگلاخاجنبی وادی میں میرا آشنا کوئی نہیں

راستے کٹتے ہوئے گم ہو گئے ہیں دھند میںدھند سے آگے خلا ہے راستہ کوئی نہیں

یہ بھیانک خواب کیوں مغلوب کرتے ہیں مجھےدودھیا راتیں سحر کے جھٹپٹے میں کھو گئیں

اور تیری نرم باہیں مجھ سے اب ناآشنااور ہی گردن کے حلقے میں لپٹ کر سو گئیں

مسکرا اٹھتا ہوں اپنی سادگی پر میں کبھیکس قدر تیزی سے یہ باتیں پرانی ہو گئیں

— اخترالایمان