8 اشعار

لوگو اے لوگو

Logo Ae Logo

لوگو اے لوگو

«لوگو اے لوگو» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان» میں 27 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

مری انتہائے محبت مسرت سوا اس کے کیا اور ہوگیبجائے کوئی مسند‌‌ عالیہ تخت طاؤس و زر مانگنے کے

بجائے کوئی سر برآوردہ پتھر صفت شخصیت چاہنے کےتمہاری معیت رفاقت تگ و دو کا انداز مانگوں

یہ جم غفیر ایک سیل رواں زندگی کا جولا سے نکل کراسی لا میں پھر ڈوب جاتا ہے یہ ریت ہے یوں ہی جاری

سمندر جو پھیلا ہے ہر چار جانب افق سے افق تکسمندر جو ہے آئینہ دار ہستی جہاد مسلسل کشاکش

سمندر جو سفاک ہے اور طوفاں سے لبریز ہے پرجنوں ہےسمندر جو بے باک ہے جنم داتا ہے اور موت کا نغمۂ سرمدی ہے

یہ سیل رواں یوں ہی بہتا رہا ہے اسی سیل میں ڈوب جاؤںمیں جو ایک قطرہ ہوں گہرائی گیرائی کا حجم کا اس کے بن جاؤں حصہ

مجھے کوئی مکتی نہیں چاہیے کوئی نروان کی آرزو کوئی خواہش نہیں ابکوئی سلسبیل اور کوثر نجات و جزا پر سکوں کوئی لمحہ

نہیں صرف امواج کی شورش رائیگاں چاہیے یہ اگر رائیگاں ہے

— اخترالایمان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں