18 اشعار

مفاہمت

Mufahamat

مفاہمت

«مفاہمت» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

جب اس کا بوسہ لیتا تھا سگریٹ کی بو نتھنوں میں گھس جاتی تھیمیں تمباکو نوشی کو اک عیب سمجھتا آیا ہوں

لیکن اب میں عادی ہوں، یہ میری ذات کا حصہ ہےوہ بھی میرے دانتوں کی بد رنگی سے مانوس ہے، ان کی عادی ہے

جب ہم دونوں ملتے ہیں، لفظوں سے بیگانہ سے ہو جاتے ہیںکمرے میں کچھ سانسیں اور پسینے کی بو، تنہائی رہ جاتی ہے!

ہم دونوں شاید مردہ ہیں احساس کا چشمہ سوکھا ہےیا پھر شاید ایسا ہے یہ افسانہ بوسیدہ ہے

درد زہ سے زیست یونہی ہلکان تڑپتی رہتی ہےنئے مسیحا آتے ہیں اور سولی پر چڑھ جاتے ہیں

اک مٹیالا انسان صفوں کو چیر کے آگے بڑھتا ہے اور منبر سے چلاتا ہےہم مصلوب کے وارث ہیں یہ خون ہمارا ورثہ ہے

اور وہ سب آدرش، وہ سب جو وجہ ملامت ٹھہرا تھااس مٹیالے شخص کے گہرے معدے میں کھپ جاتا ہے

پھر تفسیروں اور تاویلوں کی شکل میں باہر آتا ہےیہ تاویلیں مجبوروں کا اک موہوم سہارا ہیں

یا شاید سب کا سہارا ہیںیونہی میں آدرش انسان کا جویا ہوں

سب ہی سپنے دیکھتے ہیں خوابوں میں ہوا میں اڑتے ہیںپھر اک منزل آتی ہے جب پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں

شاخوں کی طرح ٹوٹتے ہیںاک روح جان و دل کو جو دنیا میں سب سے بڑھ کر ہے پا لیتے ہیں

پھر اس سے نفرت کرتے ہیں گو پھر بھی محبت کرتے ہیں!میں اس سے نفرت کرتا ہوں وہ مجھ کو نیچ سمجھتی ہے

لیکن جب ہم ملتے ہیں تنہائی میں تاریکی میںدونوں ایسے ہو جاتے ہیں جیسے آغشتہ مٹی ہیں

نفرت ضم ہو جاتی ہے اک سناٹا رہ جاتا ہےسناٹا تخلیق زمیں کے بعد جو ہر سو طاری تھا

ہم دونوں ٹوٹتے رہتے ہیں جیسے ہم کچی شاخیں ہیںخوابوں کا ذکر نہیں کرتے دونوں نے کبھی جو دیکھتے تھے

خوشیوں کا ذکر نہیں کرتے جو کب کی سپرد خاک ہوئیںبس دونوں ٹوٹتے رہتے ہیں

میں بادہ نوشی پر مائل ہوں، وہ سگریٹ پیتی رہتی ہےاک سناٹے کی چادر میں ہم دونوں لپٹے جاتے ہیں

ہم دونوں ٹوٹتے رہتے ہیں جیسے ہم کچی شاخیں ہیں!

— اخترالایمان