14 اشعار

متاع رائیگاں

Mata-e-Raaigaan

متاع رائیگاں

«متاع رائیگاں» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان» میں 27 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

یہ درد زندگی کس کی امانت ہے کسے دے دوںکوئی وارث نہیں اس کا متاع رائیگاں ہے یہ

مسیحا اب نہ آئیں گے یہی نشتر رگ جاں میںخلش بنتا رہے گا میری سانسوں میں نہاں ہے یہ

خدایا ہم سے پہلے لوگ بھی جو اس زمیں پر تھےیونہی پامال ہوتے تھے، جو اس کے بعد آئیں گے

امید صبح کے خنجر سے زخمی ہو کے جائیں گے؟(کہاں جا کر رکے گا قافلہ ان سوگواروں کا)

یہ پھر بھی تیرے بندے ہیں تری ہی حمد گائیں گےانہیں آنکھیں تو دے دی ہیں بصارت بھی انہیں دے دے

تجھے سب ڈھونڈتے ہیں اس طرح اندھے ہیں سب جیسےاسی کورے ورق پر کچھ عبارت بھی انہیں دے دے

کھڑا ہے منہ کیے مشرق کی جانب، کوئی مغرب کیمری تصویر میں ان چیختے رنگوں کی ایسی کیا ضرورت تھی)

خدایا بخش دے ان بے گناہوں کے گناہوں کویہ معنی ڈھونڈتے ہیں کشمکش میں رات اور دن کی

حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں سال اور سن کییہ سب مجبور ہیں ان پر در توبہ کھلا رکھنا

یہ دنیا خوف اور لالچ پہ جس کی نیو رکھی ہےاسی مٹی سے پھوٹے ہیں اسی دھرتی کے پالے ہیں

اجالا بھی یہی ہیں اس زمیں کا اور اندھیرا بھییہی شہکار ہیں تیرا یہی پاؤں کے چھالے ہیں

(یہ سب کے سب لباس فاخرہ میں میلی بھیڑیں ہیں)الہ العالمیں ان کی خطا سے در گزر کرنا

بہت معذور ہیں یہ خود نگر اپنی جبلت سےمقدر ان کا ہے شام و سحر کو روز سر کرنا

مساعی ان کی سیم و زر کے ڈھیروں میں بدل دیناترے پاس آئیں، موتی کے محل محنت کا پھل دینا

— اخترالایمان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں