10 اشعار

نقش پا

Naqsh-e-Pa

نقش پا

«نقش پا» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

یہ نیم خواب گھاس پر اداس اداس نقش پاکچل رہا ہے شبنمی لباس کی حیات کو

وہ موتیوں کی بارشیں فضا میں جذب ہو گئیںجو خاکدان تیرہ پر برس رہی تھیں رات کو

یہ رہروان زندگی خبر نہیں کہاں گئےوہ کون سا جہان ہے ازل نہیں ابد نہیں

دراز سے دراز تر ہیں حلقہ ہائے روز و شبیہ کس مقام پر ہوں میں کہ بندشوں کی حد نہیں

ہے مرکز نگاہ پر چٹان سی کھڑی ہوئیادھر چٹان سے پرے وسیع تر ہے تیرگی

اسے پھلانگ بھی گیا تو اس طرف خبر نہیںعدم خراب تر ملے نہ موت ہو نہ زندگی

ہزار بار چاہتا ہوں بندشوں کو توڑ دوںمگر یہ آہنی رسن یہ حلقہ ہائے بندگی

لپٹ گئے ہیں پاؤں سے لہو میں جذب ہو گئےمیں نقش پائے عمر ہوں فریب خوردۂ خوشی

کوئی نیا افق نہیں جہاں نظر نہ آ سکیںیہ زرد زرد صورتیں یہ ہڈیوں کے جوڑ سے

ہوا کے بازوؤں میں کاش اتنی تاب آ سکےدکھا سکیں وہ عہد نو ہی زندگی کے موڑ سے

— اخترالایمان