8 اشعار

پکنک

Picnic

پکنک

«پکنک» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

سماں سہانا تھا ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سےبدن کو تازگی ملتی تھی روح میں جیسے

اضافہ ہوتا سا محسوس ہو رہا تھا مجھےفضا میں اڑتے ہوئے مست ابر کے ٹکڑے

یہ لگ رہا تھا بہاروں کے ہیں فرستادےخیال آیا کہ موسم کا لطف لیں سب دوست

مرے تو جاتے ہیں جینے کو آج کھل کے جئیںعظیم شہر کی آلودہ اس فضا سے پرے

کہیں بھی مل کے چلیں ساتھ بیٹھیں کھائیں پئیںمرا پڑوسی بڑا پیارا آدمی تھا اسے

گلی میں آن کے آواز دی غلام رسولمعاً مجھے یہ خیال آیا میرا ہمسایہ

اب اس جہاں میں نہیں بن چکا ہے وقت کی دھولجو پچھلے سال اچانک بھڑک اٹھے تھے یہاں

وہ فرقہ واری فسادات کھا گئے اس کو

— اخترالایمان