34 اشعار

سبزۂ بیگانہ

Sabza Baigaana

سبزۂ بیگانہ

«سبزۂ بیگانہ» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

حسب نسب ہے نہ تاریخ و جائے پیدائشکہاں سے آیا تھا مذہب نہ ولدیت معلوم

مقامی چھوٹے سے خیراتی اسپتال میں وہکہیں سے لایا گیا تھا وہاں یہ ہے مرقوم

مریض راتوں کو چلاتا ہے ''مرے اندراسیر زخمی پرندہ ہے اک، نکالو اسے

گلو گرفتہ ہے یہ حبس دم ہے خائف ہےستم رسیدہ ہے مظلوم ہے بچا لو اسے''

مریض چیختا ہے درد سے کراہتا ہےیہ وتنام، کبھی ڈومنیکن، کبھی کشمیر

زر کثیر، سیہ قومیں، خام معدنیاتکثیف تیل کے چشمے، عوام، استحصال

زمیں کی موت بہائم، فضائی جنگ، ستماجارہ داری، سبک گام، دل ربا، اطفال

سرود و نغمہ، ادب، شعر، امن، بربادیجنازہ عشق کا، دف کی صدائیں، مردہ خیال

ترقی، علم کے گہوارے، روح کا مدفنخدا کا قتل، عیاں زیر ناف زہرہ جمال

تمام رات یہ بے ربط باتیں کرتا ہےمریض سخت پریشانی کا سبب ہے یہاں

غرض کہ جو تھا شکایت کا ایک دفتر تھانتیجہ یہ ہے اسی روز منتقل کرکے

اسے اک اور شفا خانے کو روانہ کیاسنا گیا ہے وہاں نفسیات کے ماہر

طبیب حاذق و نباض ڈاکٹر کتنےطلب کیے گئے اور سب نے اتفاق کیا

یہ کوئی ذہنی مرض ہے، مریض نے شایدکبھی پرندہ کوئی پالا ہوگا لیکن وہ

عدم توجہی یا اتفاق سے یونہیبچارہ مر گیا اس موت کا اثر ہے یہ

عجیب چیز ہے تحت شعور انساں کایہ اور کچھ نہیں احساس جرم ہے جس نے

دل و دماغ پہ قبضہ کیا ہے اس درجہمریض قاتل و مجرم سمجھتا ہے خود کو!

کسی کی رائے تھی پسماندہ قوم کا اک فردمریض ہوگا اسی واسطے سیہ قومیں

غریب کے لیے اک ٹیبو بن گئیں افسوسکوئی یہ کہتا تھا یہ اصل میں ہے حب وطن

مریض چاہتا تھا ہم کفیل ہوں اپنےکسی بھی قوم کے آگے نہ ہاتھ پھیلائیں

یہیں پہ تیل کے چشمے ہیں، وہ کریں دریافت!گمان کچھ کو تھا یہ شخص کوئی شاعر ہے

جو چاہتا تھا جہاں گردی میں گزارے وقتحسین عورتیں مائل ہوں لطف و عیش رہے

قلم کے زور سے شہرت ملے زمانے میںزر کثیر بھی ہاتھ آئے اس بہانے سے

مگر غریب کی سب کوششیں گئیں ناکامشکست پیہم و احساس نارسائی نے

یہ حال کر دیا مجروح ہوگئے اعصابغرض کہ نکتہ رسی میں گزر گیا سب وقت

وہ چیختا ہی رہا درد کی دوا نہ ملینشست بعد نشست اور معائنے شب و روز

انہیں میں وقت گزرتا گیا شفا نہ ملیپھر ایک شام وہاں سرمہ در گلو آئی

جو اس کے واسطے گویا طبیب حاذق تھیکسی نے پھر نہ سنی درد سے بھری آواز

کراہتا تھا جو خاموش ہو گیا وہ سازبرس گزر گئے اس واقعہ کو، ماضی کی

اندھیری گود نے کب کا چھپا لیا اس کومگر سنا ہے شفا خانے کے در و دیوار

وہ گرد و پیش جہاں سے کبھی وہ گزرا تھاخرابے بستیاں جنگل، اجاڑ راہ گزار

اسی کی چیخ کو دہرائے جا رہے ہیں ابھی''کوئی مداوا کرو ظالمو مرے اندر

اسیر زخمی پرندہ ہے اک نکالو اسےگلو گرفتہ ہے یہ حبس دم ہے خائف ہے

ستم رسیدہ ہے مظلوم ہے بچا لو اسے''

— اخترالایمان