16 اشعار

عروس البلاد

Uroos-ul-Bilad

عروس البلاد

«عروس البلاد» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ ہے۔

وسیع شہر میں اک چیخ کیا سنائی دےبسوں کے شور میں ریلوں کی گڑگڑاہٹ میں

چہل پہل میں بھڑوں جیسی بھنبھناہٹ میںکسی کو پکڑو سر راہ مار دو چاہے

کسی عفیفہ کی عصمت اتار دو چاہے!وسیع شہر میں اک چیخ کیا سنائی دے!

عظیم شہر بڑے کاموں کے لیے ہیں میاںوزیر اعلی کی تقریر، لیڈروں کے جلوس

سیاستوں کے مظاہر، خلوص بہر خلوصیہ رت جگوں کی جگہ، ناؤ نوش کا گڑھ ہے

یہ تم سے کس نے کہا علم و ہوش کا گڑھ ہےابھی ابھی شہ قفقاز آئے ہیں دیکھو

معززین عروس البلاد سب مل کرسپاس نامہ انہیں اس طرح کریں گے پیش

کہ جیسے دل کی کلی پھول ہو گئی کھل کرپھر اس کے بعد کسی بینک کے بڑے کرتا

کوئی صفیر کسی دیش کے نئے مکھیامشیر صنعتی منصوبہ بندیوں کے لیے

جتن ثقافتی آئینہ سازیوں کے لیےبڑے پلان، بڑی یوجنا، بڑی باتیں

ضیافتیں، بڑے ہوٹل، بڑی بڑی گھاتیں!عظیم شہر بڑے کاموں کے لیے ہے میاں!

یہاں مزار ہیں ان کے بھی جن کے نام نہیںسنہری شہر کی تسخیر کرنے آئے تھے

انہیں شکم سے بہت دور آگے جانا تھاوہ اس جہان کی تعمیر کرنے آئے تھے!

بڑے دماغ تھے طباع تھے ذہین تھے سبمگر سیاست دنیا میں کم ترین تھے سب

عظیم شہر بڑے کاموں کے لیے ہیں میاںشکست دل کوئی راکٹ ہے جو دکھائی دے

عظیم شہر میں اک چیخ کیا سنائی دے!

— اخترالایمان