10 اشعار

عمر گریزاں کے نام

Umr-e-Gurezan Ke Naam

عمر گریزاں کے نام

«عمر گریزاں کے نام» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میںاس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے

واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کاداستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے

خواب ادھورے ہیں جو دہراتا ہوں ان خوابوں کوزخم پنہاں ہیں جو وہ زخم دکھاتا ہوں اسے

اس سے کہتا ہوں تمنا کے لب و لہجے میںاے مری جان مری لیلئی تابندہ جبیں

سنتا ہوں تو ہے مری لیلیٔ تابندہ جبیںسنتا ہوں تو ہے مہ و مہر سے بھی بڑھ کے حسیں

یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں کہ ابھی تک میں نےجاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں

صبح اٹھ جاتا ہوں جب مرغ اذاں دیتے ہیںاور روٹی کے تعاقب میں نکل جاتا ہوں

شام کو ڈھور پلٹتے ہیں چرا گاہوں سے جبشب گزاری کے لیے میں بھی پلٹ آتا ہوں

یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھیخواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ملتوی کرتا رہا کل پہ تری دید کو میں

— اخترالایمان