46 اشعار

یادیں

Yaadein

یادیں

«یادیں» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 6 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

لو وہ چاہ شب سے نکلا پچھلے پہر پیلا مہتابذہن نے کھولی رکتے رکتے ماضی کی پارینہ کتاب

یادوں کے بے معنی دفتر خوابوں کے افسردہ شہابسب کے سب خاموش زباں سے کہتے ہیں اے خانہ خراب

گزری بات صدی یا پل ہو گزری بات ہے نقش بر آبیہ روداد ہے اپنے سفر کی اس آباد خرابے میں

دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میںشہر تمنا کے مرکز میں لگا ہوا ہے میلا سا

کھیل کھلونوں کا ہر سو ہے اک رنگیں گل زار کھلاوہ اک بالک جس کو گھر سے اک درہم بھی نہیں ملا

میلے کی سج دھج میں کھو کر باپ کی انگلی چھوڑ گیاہوش آیا تو خود کو تنہا پا کے بہت حیران ہوا

بھیڑ میں راہ ملی نہیں گھر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں

وہ بالک ہے آج بھی حیراں میلہ جوں کا توں ہے لگاحیراں ہے بازار میں چپ چپ کیا کیا بکتا ہے سودا

کہیں شرافت کہیں نجابت کہیں محبت کہیں وفاآل اولاد کہیں بکتی ہے کہیں بزرگ اور کہیں خدا

ہم نے اس احمق کو آخر اسی تذبذب میں چھوڑااور نکالی راہ مفر کی اس آباد خرابے میں

دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میںہونٹ تبسم کے عادی ہیں ورنہ روح میں زہر آگیں

گھپے ہوئے ہیں اتنے نشتر جن کی کوئی تعداد نہیںکتنی بار ہوئی ہے ہم پر تنگ یہ پھیلی ہوئی زمیں

جس پر ناز ہے ہم کو اتنا جھکی ہے اکثر وہی جبیںکبھی کوئی سفلہ ہے آقا کبھی کوئی ابلہ فرزیں

بیچی لاج بھی اپنے ہنر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی آباد خرابے میں

کالے کوس غم الفت کے اور میں نان شبینہ جوکبھی چمن زاروں میں الجھا اور کبھی گندم کی بو

ناقۂ مشک تتاری بن کر لیے پھری مجھ کو ہر سویہی حیات صاعقہ فطرت بنی تعطل کبھی نمو

کبھی کیا رم عشق سے ایسے جیسے کوئی وحشی آہواور کبھی مر مر کے سحر کی اس آباد خرابے میں

دیکھو ہم کیسے بسر کی اس آباد خرابے میںکبھی غنیم جور و ستم کے ہاتھوں کھائی ایسی مات

ارض الم میں خوار ہوئے ہم بگڑے رہے برسوں حالاتاور کبھی جب دن نکلا تو بیت گئے جگ ہوئی نہ رات

ہر سو مہ وش سادہ قاتل لطف و عنایت کی سوغاتشبنم ایسی ٹھنڈی نگاہیں پھولوں کی مہکار سی بات

جوں توں یہ منزل بھی سر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں

راہ نورد شوق کو رہ میں کیسے کیسے یار ملےابر بہاراں عکس نگاراں خال رخ دلدار ملے

کچھ بالکل مٹی کے مادھو کچھ خنجر کی دھار ملےکچھ منجدھار میں کچھ ساحل پر کچھ دریا کے پار ملے

ہم سب سے ہر حال میں لیکن یوں ہی ہاتھ پسار ملےصرف ان کی خوبی پہ نظر کی اس آباد خرابے میں

دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میںساری ہے بے ربط کہانی دھندلے دھندلے ہیں اوراق

کہاں ہیں وہ سب جن سے جب تھی پل بھر کی دوری بھی شاقکہیں کوئی ناسور نہیں گو حائل ہے برسوں کا فراق

کرم فراموشی نے دیکھو چاٹ لیے کتنے میثاقوہ بھی ہم کو رو بیٹھے ہیں چلو ہوا قرضہ بے باق

کھلی تو آخر بات اثر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں

خواب تھے اک دن اوج زمیں سے کاہکشاں کو چھو لیں گےکھلیں گے گل رنگ شفق سے قوس قزح میں جھولیں گے

باد بہاری بن کے چلیں گے سرسوں بن کر پھولیں گےخوشیوں کے رنگیں جھرمٹ میں رنج و محن سب بھولیں گے

داغ گل و غنچہ کے بدلے مہکی ہوئی خوشبو لیں گےملی خلش پر زخم جگر کی اس آباد خرابے میں

دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میںخوار ہوئے دمڑی کے پیچھے اور کبھی جھولی بھر مال

ایسے چھوڑ کے اٹھے جیسے چھوا تو کر دے گا کنگالسیانے بن کر بات بگاڑی ٹھیک پڑی سادہ سی چال

چھانا دشت محبت کتنا آبلہ پا مجنوں کی مثالکبھی سکندر کبھی قلندر کبھی بگولہ کبھی خیال

سوانگ رچائے اور گزر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں

زیست خدا جانے ہے کیا شے بھوک تجسس اشک فرارپھول سے بچے زہرہ جبینیں مرد مجسم باغ و بہار

مرجھا جاتے ہیں اکثر کیوں کون ہے وہ جس نے بیمارکیا ہے روح ارض کو آخر اور یہ زہریلے افکار

کس مٹی سے اگتے ہیں سب جینا کیوں ہے اک بیگاران باتوں سے قطع نظر کی اس آباد خرابے میں

دیکھو ہم نے کیسے بسر کی آباد خرابے میںدور کہیں وہ کوئل کوکی رات کے سناٹے میں دور

کچی زمیں پر بکھرا ہوگا مہکا مہکا آم کا بوربار مشقت کم کرنے کو کھلیانوں میں کام سے چور

کم سن لڑکے گاتے ہوں گے لو دیکھو وہ صبح کا نورچاہ شب سے پھوٹ کے نکلا میں مغموم کبھی مسرور

سوچ رہا ہوں ادھر ادھر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں

نیند سے اب بھی دور ہیں آنکھیں گو کہ رہیں شب بھر بے خوابیادوں کے بے معنی دفتر خوابوں کے افسردہ شہاب

سب کے سب خاموش زباں سے کہتے ہیں اے خانہ خرابگزری بات صدی یا پل ہو گزری بات ہے نقش بر آب

مستقبل کی سوچ، اٹھا یہ ماضی کی پارینہ کتابمنزل ہے یہ ہوش و خبر کی اس آباد خرابے میں

دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں

— اخترالایمان