48 اشعار

ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر

Dasna Station Ka Musafir

ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر

«ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کون سا اسٹیشن ہے؟ڈاسنہ ہے صاحب جی

آپ کو اترنا ہے؟''جی نہیں، نہیں،'' لیکن

ڈاسنہ تو تھا ہی وہمیرے ساتھ قیصر ؔتھی

یہ بڑی بڑی آنکھیںاک تلاش میں کھوئی

رات بھر نہیں سوئیجب میں اس کو پہنچانے

اس اجاڑ بستی میںساتھ لے کے آیا تھا

میں نے ان سے پھر پوچھاآپ مستقل شاید

ڈاسنہ میں رہتے ہیں؟''جی یہاں پہ کچھ میری

سوت کی دکانیں ہیںکچھ طعام خانے ہیں''

میں سنا کیا بیٹھابولتا رہا وہ شخص

''کچھ زمین داری ہےمیرے باپ دادا نے

کچھ مکان چھوڑے تھےان کو بیچ کر میں نے

کاروبار کھولا ہےاس حقیر بستی میں

کون آ کے رہتا تھالیکن اب یہی بستی

بمبئی ہے دلی ہےقیمتیں زمینوں کی

اتنی بڑھ گئیں صاحباک زمین ہی کیا ہے

کھانے پینے کی چیزیںعام جینے کی چیزیں

بھاؤ دس گنے ہیں اب''بولتا رہا وہ شخص

''اس قدر گرانی ہےآگ لگ گئی جیسے

آسمان حد ہے بس''میں نے چونک کر پوچھا

آسماں محل تھا اکسیدوں کی بستی میں

آسماں نہیں صاحباب محل کہاں ہوگا؟

ہنس پڑا یہ کہہ کر وہمیرے ذہن میں اس کی

بات پے بہ پے گونجی''اب محل کہاں ہوگا''

اس دیار میں شایدقیصرؔ اب نہیں رہتی

وہ بڑی بڑی آنکھیںاب نہ دیکھ پاؤں گا

ملک کا یہ بٹوارالے گیا کہاں اس کو

دیوڑھی کا سناٹااور ہماری سرگوشی

''مجھ سے کتنے چھوٹے ہو''میں نے کچھ کہا تھا پھر

اس نے کچھ کہا تھا پھرہے رقم کہاں وہ سب

درد کی گراں جانیمیری شعلہ افشانی

اس کی جلوہ سامانیہے رقم کہاں وہ اب

کرب زیست سب میراگفتگو کا ڈھب میرا

اس کا ہاتھ ہاتھوں میںلے کے جب میں کہتا تھا

اب چھڑاؤ تو جانوںرسم بے وفائی کو

آج معتبر مانوںاس کو لے کے باہوں میں

جھک کے اس کے چہرے پربھینچ کر کہا تھا یہ

بولو کیسے نکلو گیمیری دسترس سے تم

میرے اس قفس سے تمبھورے بادلوں کا دل

دور اڑتا جاتا ہےپیڑ پر کہیں بیٹھا

اک پرند گاتا ہے''چل چل'' اک گلہری کی

کان میں کھٹکتی ہےریل چلنے لگتی ہے

راہ کے درختوں کیچھاؤں ڈھلنے لگتی ہے

''مجھ سے کتنے چھوٹے ہو''اور مری گراں گوشی

دیوڑھی کا سناٹااور ہماری سرگوشی

ہے رقم کہاں وہ سب؟دور اس پرندے نے

اپنا گیت دہرایا''آج ہم نے اپنا دل

خوں کیا ہوا دیکھاگم کیا ہوا پایا''

— اخترالایمان