7 اشعار

اب ہم کو کسی سے کوئی شکوہ نہ رہے گا

Ab hum ko kisi se koi shikwa na rahe ga

اب ہم کو کسی سے کوئی شکوہ نہ رہے گاجب تم نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہے گا

دنیا میں رہے سلسلۂ حسن مجھے کیااے وقت مرا عہد تمنا نہ رہے گا

شاید کوئی حد سیل تمنا کی ہو لیکندھارا تو یہ کہتا ہے کنارا نہ رہے گا

بیٹھے تھے گھنی چھاؤں میں اس کی نہ خبر تھیبڑھ جائے گی دھوپ اور یہ سایا نہ رہے گا

جب دیکھ کے خوش ہوتے تھے کیا جانتے تھے ہمبڑھ جائے گی دھوپ اور یہ سایا نہ رہے گا

جب دیکھ کے خوش ہوتے تھے کیا جانتے تھے ہمرہ جائیں گی آنکھیں یہ تماشا نہ رہے گا

سمجھا تھا نہ سمجھا ہے نہ سمجھے گا رضاؔ کچھدیوانہ تھا دیوانہ ہے دیوانہ رہے گا

— آل رضا رضا