8 اشعار

تم کو تو کبھی دل سے بلانا نہیں آتا

Tum ko toh kabhi dil se bulana nahin aata

تم کو تو کبھی دل سے بلانا نہیں آتاہم آ کے جو بیٹھے ہیں تو جانا نہیں آتا

کہہ دوں تو مزے پر یہ فسانہ نہیں آتاٹھہروں تو پلٹ کر یہ زمانہ نہیں آتا

کاہے کو یہ پھر ہوش میں لانے کے ٹھہوکےجاؤ تمہیں دیوانہ بنانا نہیں آتا

آتی ہے بہار اور لٹا دیتی ہے دولتاک پھول کی مٹھی میں خزانہ نہیں آتا

تم کو تو یہ آتا ہے کہ یاد آئے چلے جاؤہم تم کو بھلائیں تو بھلانا نہیں آتا

مقدور تھا بس ایک ہی سجدہ ترے در پرسر میں نے جھکایا ہے اٹھانا نہیں آتا

آتی ہے ہمیں صرف محبت کی غلامیاحسان محبت کا جتانا نہیں آتا

پھر لاکھ محبت کو رضاؔ کوئی سنوارےآغاز محبت کا زمانہ نہیں آتا

— آل رضا رضا