6 اشعار

اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیا

Ek chah ki nigah ka afsana ban gaya

اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیاوہ انگلیاں اٹھیں کہ میں دیوانہ بن گیا

اپنے ہی دل کی بات ہے اپنے کئے کی لاجکعبہ بنا رہا تھا میں بت خانہ بن گیا

اللہ رے بزم ناز تری ناشناسیاںجس کو کیا سلام وہ بیگانہ بن گیا

چپکے سے ان کا نام لیا دل سے بات کییہ کون سن رہا تھا کہ افسانہ بن گیا

خلاق حسن و عشق بڑا دل نواز ہےتخلیق شمع ہوتے ہی پروانہ بن گیا

دنیا کے تخت و تاج رضاؔ ٹھوکروں پہ ہیںکیا چیز اپنا ٹھاٹھ فقیرانہ بن گیا

— آل رضا رضا