9 اشعار

رات گزری پھر اندھیرا چھا گیا

Raat guzri phir andhera chha gaya

رات گزری پھر اندھیرا چھا گیااپنا سورج دن چڑھے گہنا گیا

ہم نہ جانے کون عالم میں رہےوقت کاٹا جی نہ بہلایا گیا

بس یہی تھا ان کو پتھر دل پہ نازظلم فرمائیں ترس کیوں آ گیا

معرکہ آرا ہوئے تھے حسن و عشقبیچ میں دل آ گیا مارا گیا

چودھویں کے چاند والی رات میںچاند نکلا تھا کہ بادل چھا گیا

کیا سمجھ سکتے محبت کا فریبیوں تو سمجھے جس قدر سمجھا گیا

ہم سر راہ وفا سنتے رہےکہہ گیا اپنی سی ہر آیا گیا

آنے والا تھا اندھیرا رات کاشام ہوتے دور تک سایا گیا

وضع خودداری نباہی تو مگراے رضاؔ دانتوں پسینہ آ گیا

— آل رضا رضا