7 اشعار

قریب کچھ نہ ملا دور سے دھواں دیکھا

Qareeb kuch na mila door se dhuaan dekha

قریب کچھ نہ ملا دور سے دھواں دیکھاقفس سے چھوٹ کے کیا خوب آشیاں دیکھا

یہی ہے سیر فقیروں کی اور یہی فریادزمیں پہ بیٹھ گئے سوئے آسماں دیکھا

ہوئے تمام جو سجدے تھے دور کے آدابیہاں سے اور ہے عالم کہ آستاں دیکھا

حصار کھینچ کے اپنے ہی دل کا بیٹھ رہےزمانے بھر کو محبت سے بد گماں دیکھا

چمن چمن تری سیریں نظر بہار بہارچٹک چٹک پڑے غنچے جہاں جہاں دیکھا

حریم ناز پہ وہ رنگ و نور کی بارشحریم ناز میں کیا تھا یہ پھر کہاں دیکھا

رضاؔ نے دل کو سجا کر ترے تصور سےجہان حسن میں اک حسن دو جہاں دیکھا

— آل رضا رضا