6 اشعار

نہ رکھا کہیں کا نہ اپنا بنایا

Na rakha kaheen ka na apna banaya

نہ رکھا کہیں کا نہ اپنا بنایاوہ کیا چاہتے ہیں سمجھ میں نہ آیا

دیا دل تو کیف وفا ہاتھ آیاوہ کیا جانے جس نے نہ کھویا نہ پایا

یہی فرض کر لو کہ درد محبتنہ تم نے سنا اور نہ میں نے سنایا

کڑی دھوپ میں ہے محبت کی منزلذرا دیر کا ہے سر راہ سایا

نشیمن غریبوں کے اجڑے پڑے ہیںہوائے گلستاں کو چلنا نہ آیا

رضاؔ کھیلنا تھا غم زندگی سےمحبت کو ہم نے وسیلہ بنایا

— آل رضا رضا