6 اشعار

تری سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ آ جانے سے کیا ہوگا

Teri sookhe hue honton pe aa jaane se kya hoga

تری سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ آ جانے سے کیا ہوگابہت ترسے ہیں ساقی ایک پیمانے سے کیا ہوگا

جو آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں جھٹلانے سے کیا ہوگانظر تڑپا رہی ہے دل کو بہلانے سے کیا ہوگا

نشیمن کی بنا رکھی ہے کچھ تو سوچ کر ہم نےچما چم بجلیاں ہر سو چمک جانے سے کیا ہوگا

محبت نے کہا تیار کر کے پہلا دیوانہابھی لاکھوں بنیں گے ایک دیوانے سے کیا ہوگا

ہزاروں انقلاب درد ہیں کروٹ سے کروٹ تکتڑپتے ہی رہو پہلو بدل جانے سے کیا ہوگا

رضاؔ دیکھو جو تم ان کی طرف سے دل میں کہتے تھےطبیعت میں ذرا سا انقلاب آنے سے کیا ہوگا

— آل رضا رضا