5 اشعار

قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہے

Qismat mein khushi jitni thi hui aur gham bhi hai jitna hona hai

قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہےگھر پھونک تماشا دیکھ چکے اب جنگل جنگل رونا ہے

ہستی کے بھیانک نظارے ساتھ اپنے چلے ہیں دنیا سےیہ خواب پریشاں اور ہم کو تا صبح قیامت سونا ہے

دم ہے کہ ہے اکھڑا اکھڑا سا اور وہ بھی نہیں آ چکتے ہیںقسمت میں ہو مرنا یا جینا اب ہو بھی چکے جو ہونا ہے

دل ہی تو ہے آخر بھر آیا تم چیں بہ جبیں کیوں ہوتے ہوہم تم کو بھلا کچھ کہتے ہیں تقدیر کا اپنی رونا ہے

غم کاہے کا یارو ماتم کیا بدلو گے نظام عالم کیامرنا تھا رضاؔ کو مرتا ہے یہ کاہے کا رونا دھونا ہے

— آل رضا رضا