10 اشعار

آشکارا راز حسن کبریا کیونکر ہوا

Āshkārā rāz-e-husn-e-kibriyā kyuñkar huā

آشکارا راز حسن کبریا کیونکر ہوا

«آشکارا راز حسن کبریا کیونکر ہوا» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

آشکارا راز حسن کبریا کیونکر ہوارہ کے سو پردوں میں عالم آشنا کیونکر ہوا

اے مسیحا میرے دشمن ہوں شفا سے ناامیدتو سلامت درد میرا لا دوا کیونکر ہوا

اپنا بندہ بھی مجھے کہتا ہے پھر محتاج بھیتجھ سے شاہنشاہ کا بندہ گدا کیونکر ہوا

پوچھ لے قاتل زبان تیغ سے سب سر گذشتکشتے کس منہ سے بتائیں کیا ہوا کیونکر ہوا

جیتے جی برسوں میں تڑپا تب نہ لی تم نے خبرمر گئے پر پوچھتے ہو کیا ہوا کیونکر ہوا

میں نہ مانوں گا کہ دی اغیار نے ترغیب قتلدشمنوں سے دوستی کا حق ادا کیونکر ہوا

میں نہ مانوں گا نہ آئینے کا ہے سارا قصورخود بہ خود وہ خود پسند و خود نما کیونکر ہوا

اس نے کھینچی تیغ یاں سر جھک گیا قصہ مٹاخلق یہ کیوں پوچھتی ہے ماجرا کیونکر ہوا

چاٹتی ہے کیوں زبان تیغ قاتل بار باربے نمک چھڑکے یہ زخموں میں مزا کیونکر ہوا

الفت گیسو بلا تھی مر گیا پھنس کر امیرؔہے بڑا جھگڑا نہ پوچھو فیصلہ کیونکر ہوا

— امیر مینائی