7 اشعار

رند خراب تیرا وہ مے پیے ہوئے ہے

Rind-e-kharāb terā vo mai piye hu'e hai

رند خراب تیرا وہ مے پیے ہوئے ہے

«رند خراب تیرا وہ مے پیے ہوئے ہے» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

رند خراب تیرا وہ مے پیے ہوئے ہےمدت سے جان جس پر زاہد دیے ہوئے ہے

کس شان سے وہ مے کش آتا ہے مے کدہ میںقاضی سبو صراحی مفتی لیے ہوئے ہے

آتا نہیں نظر کچھ گو سامنا ہے اس کاکیا بیچ میں تحیر پردہ کیے ہوئے ہے

ہو کون بخیہ گر سے زخمی کا تیرے ساعیرشتہ کھنچا ہے سوزن منہ کو سیے ہوئے ہے

پیر مغاں وہ کاکل مرشد ہے بادہ خواروجمشید بھی پیالہ اس کا پیے ہوئے ہے

حرمت میں دخت رز کی اصرار ہے جو اتنایہ بات کیا ہے رند و واعظ پیے ہوئے ہے

رحم اب امیرؔ پر بھی لازم ہے یار تجھ کوکب سے ڈھئی وہ تیرے در پر دیے ہوئے ہے

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں