5 اشعار

آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

Aaj ki baat ko kyun kal pe utha rakha hai

آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

«آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

وصل ہو جائے یہیں حشر ، حشر میں کیا رکھا ہےآج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

محتسب پوچھ نہ تو شیشے میں کیا رکھا ہےپارسائی کا لہو اس میں بھرا رکھا ہے

کہتے ہیں آئے جوانی تو یہ چوری نکلےمیرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے

اس تغافل میں بھی سرگرمِ ستم وہ آنکھیںآپ تو سوتے ہیں، فتنوں کو جگا رکھا ہے

آدمی زاد ہیں دنیا کے حسیں ،لیکن امیریار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے

— امیر مینائی