20 اشعار

حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے

Halqe mein rasoolon ke woh maah-e-madani hai

حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے

«حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

‏نعت رسول مقبول ﷺحلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے

کیا چاند کی تنویر ستاروں میں چھنی ہےکہدے میرے عیسٰی سے مدینے میں یہ کوئی

اب جان پہ بیمارِ مَحَبّت کے بنی ہےمحبوب کو بے دیکھے ہوئے لوٹ رہے ہیں

عشّاق میں کیا رنگِ اویسِ قرنی ہےگھر سے کہیں اچھا ہے مدینے کا مسافر

یاں صبحِ وطن شامِ غریب الوطنی ہےمعراج میں حوروں نے جو دیکھا تو یہ بولیں

کس نوک پلک کا یہ جوانِ مدنی ہےاِک عمر سے جلتا ہے مگر جل نہیں چکتا

کس شمع کا پروانہ اویسِ قرنی ہےعشاق سے پوچھے نہ گئے حشر میں اعمال

کیا بگڑی ہوئی بات مَحَبّت سے بنی ہےیاد احمدِ مختار کی ہے کعبہِ دل میں

مکے میں عیاں جلوہِ ماہِ مدنی ہےکس شوق سے جاتے ہیں مدینے کے مسافر

محبوب وطن سے کہیں یہ بے وطنی ہےکہتا ہے مسافر سے یہ ہر نخلِ مدینہ

آرام ذرا لے لو یہاں چھاؤں گھنی ہےآغوشِ تصور میں بھی آنا نہیں ممکن

حوروں سے بھی بڑھ کر تری ناز کبدنی ہےاللہ کے محبوب سے ہے عشق کا دعوٰی

بندوں کا بھی کیا حوصلہ اللہ غنی ہےآنکھوں سے ٹپکتا ہے مری رنگِ اویسی

جو لختِ جگر ہے وہ عقیقِ یمنی ہےمیں اس کے غلاموں میں ہوں جو سب کا ہے آقا

سردارِ رسل سیّدِ مکی مدنی ہےاعدا نے جہاں مانگی اماں رُک گئی چل کر

شمشیرِ حُسینی میں بھی خلقِ حَسَنی ہےہر دل میںں ہےں محبوبِ الٰہی کی تجلی

ہر آئینے میں عکسِ جمالِ مدنی ہےمقتل ہے چمن نعش پہ حوروں کا ہے مجمع

کیا رنگ میں ڈوبی مری خونیں کفنی ہےپہنچی ہیں کہاں آہیں اویسِ قرنی کی

باغوں میں مدینے کے ہوائے یمنی ہےکچھ مدح پڑھوں روضہِ پُر نُور پہ چلکر

یہ بات امیؔر اب تو مرے دل میں ٹھنی ہے

— امیر مینائی